نئی دہلی،25نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے نربھیا آبروریزی متاثرہ کی ماں کی وہ درخواست قبول کر لی، جس میں انہوں نے چار مجرموں کو جلد سے جلد پھانسی دلوانے کے لئے کیس دوسرے جج کے پاس بھیجنے کی اپیل کی تھی۔درخواست قبول کرتے ہوئے عدالت نے معاملہ ایڈیشنل سیشن جج ستیش ارورہ کے پاس بھیج دیا ہے۔چار قصورواروں کو پھانسی دینے کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے نربھیا کے اہل خانہ نے 16 نومبر کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔اس معاملے کی سماعت کر رہے دو ججوں کا ٹرانسفر ہو چکا ہے۔ایڈووکیٹ سیما سمدھی کشواہا کی طرف سے دائر عرضی ضلع جج یشونت سنگھ نے قبول کی تھی، جنہوں نے معاملے کی سماعت کے لئے 25 نومبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔متاثرہ کے اہل خانہ نے کہا کہ معاملے کی سماعت کر رہے دو ججوں کا ٹرانسفر ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے پھانسی ملتوی ہو گئی ہے، جس سے انہیں انصاف ملنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ایڈووکیٹ کشواہا نے کہاکہ ججوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے معاملے میں ہمیں انصاف ملنے میں تاخیر ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے ہم نے کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔انہوں نے کہا کہ قصورواروں کے تمام اقدامات ختم ہو چکے ہیں۔پھر بھی جج کی عدم دستیابی کی وجہ سے معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ہم نے آبروریزی کے قصورواروں کو پھانسی دینے کی جیل انتظامیہ کو ہدایت دینے کے لئے کورٹ سے اپیل کی ہے۔تہاڑ جیل انتظامیہ نے 31 اکتوبر کو کیس کے قصورواروں کو ایک نوٹس دیا تھا، جس کے مطابق اگر انہوں نے رحم کی درخواست دائر نہیں کی تو سات دن کے اندر انہیں پھانسی دے دی جائے گی۔گزشتہ سال دسمبر میں نربھیا کے اہل خانہ نے معاملے کے چار مجرموں کو پھانسی دینے کے عمل میں تیزی لانے کے لئے کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔قابل ذکر ہے کہ سولہ دسمبر، 2012 کی رات جنوبی دہلی میں ایک چلتی بس میں چھ افراد نے 23سالہ نربھیا کے ساتھ مل کر آبروریزی کی تھی۔ جس کی وجہ سے ملک بھر میں غم و غصہ کا ماحول تھا۔ اور حکومت نے آبروریزی سے متعلق قانون اور سخت کئے تھے۔